زندگی! لکھنے اور بولنے میں ایک چھوٹا سا لفظ ہے، مگر اس لفظ سے جڑے احساسات، تکالیف اور اہمیت اسے دنیا کی سب سے قیمتی شے بنا دیتے ہیں، کہ لالچ میں مشغول انسان، جس کے لیے پیسہ سب کچھ ہوتا ہے وہ اس زندگی کو بچانے کی خاطر اسے بھی قربان کر دیتا ہے. مگر یہ زندگی میں ایسا کیا ہے جو اسے اتنا قیمتی بنا دیتا ہے؟ کیوں انسان اس کو گزارنے کی خاطر ہر راہ ہر دیوار پھلانک دیتا ہے؟ کیوں اس کے نازونخرے اٹھانے کے لیے ٹیکنالوجی کے انبار لگا دیے؟ بہت سارے سوالات کا ایک مختصر جواب یہ ہے کہ: زندگی خالصتاً بنائی یا ڈیزائن ہی اس مطابق کی گئی ہے تاکہ انسان کی عقل کا امتحان لیا جائے، بلکل ویسے ہی جیسے سائنسدان ریبورٹ بنا کر اس میں کوڈینگ کرتے ہیں اور پھر اس کی ٹیسٹنگ کرتے ہیں کہ یہ کتنا میعاری ہے. بلکل ایسے ہی اللہ سبحان و تعالٰی نے انسان کو بنا کر اور زندگی دے کر آزمائش میں اس طرح ڈال دیا کہ، coding بھی کر دی، قانون بھی بتا دیے اور ساتھ ہی ساتھ طاقت اور عقل جیسی نعمتیں اور آزمائشیں بھی دے دی تاکہ دیکھ سکے اسی کا بنایا ہوا انسان کیا کرتا ہے. پھر وہی روح اور سانسوں کا محتاج انسان یا تو فرعون بن جاتا یے یا تو موسيٰ علیہ السلام. ایک اپنے آپ میں جہنم اور ایک جنت۔ اسی طرح زندگی اپنے ساتھ جنت اور جہنم لے کے پیدا ہوتی ہے،یعنی خوشی اور غم. کسی کو غموں کے انبار کے بعد تازہ ہوا کا جھونکا نصیب ہوتا کے تو کسی کو خوشیوں کی بھری ہوئی جھولی کے بعد آگ کے انبارے سہنے پڑھتے ہیں. ایک مومن کی زندگی آزمائشوں کی گٹھڑی کی طرح ہوتی ہے جس کے کھولتے ہی سب بکھر جاتا ہے، مگر وہ پھر سے سمٹ کر ایک سمت میں آجاتی ہے،مگر ایک کافر کی زندگی پھول جیسی ہوتی ہے، جس کی تروتازگی اور خوبصورتی کے سب دیوانے ہوتے ہیں مگر جب وہ مرجھا جائے تو نہ تو اسے کوئی ویسی فوقیت دیتا یے اور نہ ہی وہ دوبارہ اپنی خوبصورت شکل اختیار کر سکتا. کیونکہ دنیا مومن کے لیے ایک آزمائش ہے اور کافر کے لیے جنت. علامہ محمد اقبال کا ایک شعر اس کی عکاسی بہت گہرے الفاظ میں کرتا ہے:
رحمتیں ہیں تیری آغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
تو زندگی یہی ہے، ایک آزمائش جس میں کوئی دنیا میں اختیارت اور طاقت کے مزے لوٹے گا اور کوئی ازلی اور عدمی زندگی میں اپنی سلطنت کا بادشاہ ہو گا.
ReplyDelete👍
Very true
ReplyDeleteexactly
ReplyDelete